کرسچین اسٹڈی سنٹر راولپنڈی میں کروڑوں روپے کی خردبرد اور جعلی اور بوگس دستاویزا ت جمع کروانے کا معاملہ، عدالت نے ڈی سی راولپنڈی کو انکوائری کرکے کاروائی کرنے کا حکم دے دیا

 



راولپنڈی (بیورو رپورٹ): رجسٹرار جوائنٹ اسٹاک کمپنیز راولپنڈی اور غیر سرکاری تنظیموں کا گٹھ جوڑ، جعلی اور بوگس کاغذات کے تحت کام کرنے کی اجازت اور تحفظ،  غیر سرکاری تنظیمیں کروڑوں روپے کے خردبرد اور جعلی سازی میں ملوث، سرکاری ادارہ حصہ دار بن گیا، غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے بیرونی ممالک کا ایجنڈہ مسلط ہونے کے خدشات، اعلی سرکاری افسران نے آنکھیں بند کرلی۔ راولپنڈی میں حساس دفاتر کے ناک کے نیچے واقع کرسچین اسٹڈی سنٹر، سال ہا سال سے رجسٹرار جوائنٹ اسٹاک کمپنیز کو جعلی دستاویزات جمع کروا کر اپنے مذموم مقاصد کو پورا کررہا ہے۔ دستاویزکے مطابق چرچ پراپرٹی بچاؤ تحریک نے راولپنڈی میں واقع کرسچین اسٹڈی سنٹر کے خلاف مبینہ کرپشن، فنڈز کے خوردبرد اور رجسٹرار کے دفترمیں جعلی اور بوگس کاغذات جمع کروانے میں ملوث ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی متعلقہ اداروں کو ان کے گھنونے کاموں کے متعلقہ شکایت کی گئی تاہم شنوائی نہیں ہوئی۔  لاہور ہائی کورٹ، راولپنڈی بنچ میں چرچ پراپرٹی بچاؤ تحریک کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن پر فیصلہ میں لکھا کہ کرسچین اسٹڈی سنٹر مبینہ طور پر فنڈز کے خورد برد کے علاوہ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں مرحوم افراد کے جعلی دستخط شدہ کاغذات جمع کرکے جرم کا ملوث ہے۔ ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے فاضل جج جسٹس سلطان تنویر احمد نے رٹ پٹیشن نمٹاتے ہوئے فیصلے میں لکھا ہے کہ کرسچین اسٹدی سنٹر گزشتہ کئی سالوں سے اپنے اغراض ومقاصد کے برعکسی مذموم سرگرمیوں میں ملوث نظر آتا ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ سرکاری ادارے کو کاروائی کی درخواست دائر کی گئی تاہم شنوائی نہیں ہوئی۔ ادارے نے کروڑوں روپے کے فنڈز کے خرد برد کے علاہ  بورڈ ممبر جان وکٹر مل جو 14جنوری، 2019ء کو جہاں فانی سے کوچ کرگئے تاہم مارچ، 2019ء اور سال 2020ء میں رجسٹرار اسٹاک کمپنیز کو جمع کروائی گئی کاروائی میں مرحوم بورڈ ممبر کے جعلی دستخط کیے گئے۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو ہدایت کی کہ الزامات کی روشنی میں فریقین کو سن کر تین ہفتے میں انکوائری مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے۔ درخواست گزار نے یہ بھی استدعا کی کہ موجودہ ڈائریکٹر سیموئیل رابرٹ عزاریاہ ایک متنازعہ شخصیت ہے اور ادارے میں ان کی تقرری غیر آئینی ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے انکوائری کا عمل شروع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے عدالت کے حکم پرکاروائی کرتے ہوئے  22جون کو متعلقہ فریقین کو طلب کیا، جس میں کرسچین اسٹدی سنٹر کی جانب سے متنازعہ ڈائریکٹر سیموئیل رابرٹ عزارایاہ و دیگر ڈی سی راولپنڈی کے دفتر میں پیش ہوئے جبکہ پٹیشنر کی جانب سے جمیل کھوکھر اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئے۔ ڈی، سی راولپنڈی نے فریقین کو دستاویزات پیش کرنے کیلئے 29 جون مقرر کی تاہم 29 جون کو کرسچین اسٹدی سنٹر کے نمائندگان کی غیر حاضر ی کے بعد ڈی سی راولپنڈی نے 6 جولائی کو متعلقہ فریقین کو اپنے جواب جمع کروانے کی مہلت دی ہے۔ اس سلسلے میں کرسچین اسٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر سیموئیل عزاریاہ نے الزامات کو بے بنیاد قرارد یا اور کہا کہ یہ ادارے کے خلاف سازش ہے اور وہ متعلقہ اداروں کو اپنی صفائی پیش کریں گے۔ دوسری جانب رجسٹرار اسٹاک کمپنیز کے دفتر سے اعلی افسر کا کہنا تھا کہ سرکاری دفتر کے پاس کسی غیر سرکاری تنظیم کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا اختیار نہیں۔ چرچ پراپرٹی بچاؤ تحریک کے لیگل کواڈینیٹر ذیشان اعجاز نے کہا کہ گزشتہ چند عشروں سے  پاکستان میں چند خاندانوں نے مسیحی اداروں پر قبضہ جما رکھا ہے اور ان اداروں میں اپنے رشتہ داروں کی تعیناتی کے قوم کی حق تلفی کرتے ہیں اور مال بنا رہے ہیں۔کرسچین اسٹڈی سنٹر کوبیرونی ممالک سے گرانٹس مسیحیوں کی فلاح اور دیگر اقوام کے ساتھ بہتر روابط بنانے کیلئے دی جاتی ہے تاہم ادارے پر ناجائز قابض گروپ،بشپ ریٹائرڈ سیموئیل عزاریاہ، ان کے چچا وکٹر عزرایاہ اور دیرینہ ساتھی مارون پرویز فرخ نے ایک دہائی سے کرسچین اسٹڈی سنٹر کو یرغمال بنا رکھا ہے اور ذاتی تسکین کو ترجیح دیتے ہوئی کروڑوں روپے خرد برد کر دیے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ مسیحی قوم کے وسیع تر مفادکیلئے ایسے افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے کردار کے مرتکب افراد کے خلاف کریمینل کاروائی ہونی چاہیے اور لوٹا ہوا مال قوم کو واپس کیا جائے۔ ماروان پرویز جیسے لوگ ایک ہی وقت میں مختلف اداروں میں بیٹھ کر تنخواہیں اور مراعات بٹور تے رہتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Palestinian people have been tired of UN resolutions and promises, says Ambassador Ahmed Rabei

چرچ پراپرٹی بچاؤ تحریک نے اقلیتی مشترکہ املاک آرڈیننس ایکٹ 2020ء ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔