پروفیسر ڈاکٹر شہباز گل صاحب
شمیم محمود لکھنو کو ادب کا شہر کہا جاتا ہے، لکھنو کے لوگ لڑتے ہوئے بھی ادب کا دامن نہیں چھوڑتے۔ دو بچے آپس میں کچھ یوں بحث کررہے تھے۔ عالی جاہ، ہماری دیرینہ قلبی حسرت ہے کہ آپ کے رُخ روشن پر ایسا زناٹے دار طمانچہ رسید کریں کہ آپ کے چہرے پر ہماری انگلیوں کے نشان ابد تک ثبت ہوجائیں اور آپ تاحیات اس ذلّت کے نشان کو لے کر کوچہ کوچہ , قریہ قریہ اور بستی بستی گھوما کریں۔ دوسرا بچہ کہتا ہے کہ جان عزیز۔ ایسی لاحاصل خواہشات کو اپنے دل ناداں میں جگانے پر گویا ہم محض مسکرا ہی سکتے ہیں۔ ہم چاہتے تو اس رن بے تاب لفظی پر رسہ کشی کرتے ہوئے۔ آپ کی عزیزم ہمشیرگان اور آپ کی والدہ محترمہ کی شان عالی شان میں غیر شرعی اضافتیں کرسکتے تھے۔ مگر ہمارے والد بزرگوار نے ہمیں ہر دم اخلاقیات کا دامن قوی تر پکڑے رہنے کا حکم دیا ہے۔ ورنہ ایسے ناشائستہ اور نازیبا کلمات ادا کرنے پر ہمارے ایک ہی ہاتھ سے آپ کا رخسار مثلِ گلاب لال ہوجاتا مگر قربان جائیں کہ ہماری بے مثال تربیت پر جو آڑے آتی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی عدالت میں پیشی تھی۔ غالبا لاہور ہائی کورٹ میں ہی شہباز گل کا بھی کوئی کی...